
تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، عزت مآب آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان، عزت مآب محمد شہباز شریف، اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ پاکستان، عزت مآب محمد اسحاق ڈار کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔


اپنے خطاب میں سفیر قاسم محی الدین نے قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے وژن اور بانیانِ پاکستان کے اصولوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے مختلف اقدامات کے نتیجے میں پاکستان نے تمام شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ آج پاکستان خطے اور دنیا میں امن کے لیے اپنے مستقل عزم اور کوششوں کے باعث بین الاقوامی سطح پر احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
سفیر نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان گہرے اور برادرانہ تعلقات کو بھی اجاگر کیا، جو باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور مشترکہ تاریخی و ثقافتی ورثے کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔
دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط ثقافتی روابط کی عکاسی کرتے ہوئے، آذربائیجانی اردو اسکالر جناب رووشن شیرانخالی اور باکو اسٹیٹ یونیورسٹی کی طالبہ محترمہ نازنین شاہ گل دیوا نے اردو زبان میں تقاریر کیں، جن میں پاکستان کے بانیان کی خدمات اور کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا۔ ان کی تقاریر سے پاکستان اور آذربائیجان کے عوام کے درمیان گہری محبت اور برادرانہ جذبات کی عکاسی ہوئی۔
تقریب میں پاکستانی کمیونٹی کے ارکان، معززین، ماہرینِ تعلیم، طلبہ، ممتاز میڈیا نمائندگان اور آذربائیجان کے متعدد دوستوں نے شرکت کی۔


