ڈاکٹر شازیہ شہزادی پاکستان کی ممتاز ماہرِ نفسیات، اسپیچ پیتھالوجسٹ، محقق، مصنفہ، ٹرینر اور اکیڈمک لیڈر ہیں۔ وہ گزشتہ 26 برس سے زائد عرصے سے تدریس، تحقیق، کلینیکل پریکٹس، ذہنی صحت، تربیت اور تعلیمی انتظام کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ڈاکٹر شازیہ شہزادی پی ایچ ڈی سطح پر تحقیق و نگرانی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی علمی و تحقیقی سرگرمیوں سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کے نمایاں علمی شعبوں میں نفسیات، ذہنی صحت، مثبت نفسیات، رویہ جاتی علوم، اسپیچ اینڈ کمیونیکیشن، تحقیقی سرگرمیاں اور اکیڈمک لیڈرشپ شامل ہیں۔
وہ چھ کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ ان کا علمی وژن تحقیق کو محض علمی اشاعت تک محدود رکھنے کے بجائے اسے انسانی فلاح، ذہنی صحت اور معاشرتی ترقی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بنانا ہے۔
نوجوان محققین کی تربیت، پی ایچ ڈی طلبہ کی رہنمائی، خواتین کی قیادت، ذہنی صحت کے فروغ اور شواہد پر مبنی نفسیاتی مداخلتوں کے شعبے ان کی خصوصی دلچسپی کا مرکز ہیں۔

پروفائل باکس
ڈاکٹر شازیہ شہزادی کون ہیں؟
پیشہ ورانہ شناخت:
ماہرِ نفسیات، اسپیچ پیتھالوجسٹ، محقق، مصنفہ، ٹرینر اور اکیڈمک لیڈر
تعلیمی قابلیت:
• پی ایچ ڈی سوشل اینڈ بیہیویئرل سائنسز — ملائیشیا
• ایم ایس کلینیکل سائیکالوجی
• ایم ایس اسپیچ پیتھالوجی اینڈ آڈیالوجی
• ایم ایس سی اپلائیڈ سائیکالوجی
موجودہ علمی وابستگیاں:
• پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ فیلو — ملائیشیا
• ایڈجنکٹ پی ایچ ڈی سپروائزر اور ایکسٹرنل ایگزامینر — ملائیشیا
اہم علمی شعبے:
نفسیات، ذہنی صحت، مثبت نفسیات، ایموشنل فریڈم ٹیکنیک، رویہ جاتی علوم، اسپیچ اینڈ کمیونیکیشن، تحقیق اور اکیڈمک لیڈرشپ
تصانیف:
چھ کتابوں کی مصنفہ
پیشہ ورانہ تجربہ:
تدریس، تحقیق، کلینیکل پریکٹس، تربیت اور تعلیمی انتظام میں 26 سال سے زائد تجربہ
خصوصی دلچسپیاں:
ذہنی صحت، نوجوان محققین کی تربیت، پی ایچ ڈی طلبہ کی رہنمائی، خواتین کی قیادت اور شواہد پر مبنی نفسیاتی مداخلتیں

ذہنی صحت کو کمزوری نہیں، قومی ترجیح سمجھنا ہوگا
ڈاکٹر شازیہ شہزادی
“ہم جسمانی تکلیف کا علاج فوراً کراتے ہیں، مگر ذہنی تکلیف کو برسوں خاموشی میں برداشت کرتے رہتے ہیں۔”
خصوصی گفتگو
معروف ماہرِ نفسیات، اسپیچ پیتھالوجسٹ، محقق، مصنفہ اور تعلیمی رہنما ڈاکٹر شازیہ شہزادی گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ذہنی صحت، انسانی رویّوں، تعلیم، تربیت اور تحقیق کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ بین الاقوامی علمی سرگرمیوں، پی ایچ ڈی سطح کی تحقیقی نگرانی اور علمی و تحقیقی تصانیف کے ساتھ ساتھ وہ معاشرے میں ذہنی صحت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کو بھی اپنی اہم ذمہ داری سمجھتی ہیں۔
ذہنی صحت کے موجودہ چیلنجز، نوجوان نسل، خواتین، والدین، تعلیمی اداروں اور جدید دور کے نفسیاتی مسائل کے حوالے سے ڈاکٹر شازیہ شہزادی سے خصوصی گفتگو کی گئی۔
سوال 1: پاکستانی معاشرے میں ذہنی صحت کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
جواب:
ہمارے معاشرے میں مسئلہ صرف ڈپریشن یا اضطراب نہیں بلکہ ذہنی صحت کے بارے میں خاموشی، غلط فہمیاں اور سماجی بدنامی کا خوف بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
لوگ جسمانی بیماری کا ذکر کرنے میں عموماً شرم محسوس نہیں کرتے، لیکن ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنے کو بعض اوقات کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی۔ ذہنی صحت بھی جسمانی صحت کی طرح انسانی صحت کا بنیادی اور لازمی حصہ ہے۔
سوال 2: کس طرح معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کسی شخص کو پیشہ ورانہ نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے؟
جواب:
اگر کسی شخص میں مسلسل اداسی، بےچینی، چڑچڑاپن یا ذہنی تھکن پائی جائے، نیند یا بھوک میں نمایاں تبدیلی آئے، کام یا تعلیم میں دلچسپی کم ہو جائے، تعلقات متاثر ہونے لگیں یا روزمرہ زندگی کے معمولات میں رکاوٹ پیدا ہونے لگے تو اس کیفیت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
ہر پریشانی ذہنی بیماری نہیں ہوتی، لیکن جب کوئی کیفیت مسلسل برقرار رہے اور فرد کی روزمرہ کارکردگی کو متاثر کرے تو کسی تربیت یافتہ ماہر سے مشورہ کرنا ایک مناسب اور ذمہ دارانہ قدم ہے۔
سوال 3: آج کے نوجوان ذہنی دباؤ کا زیادہ شکار کیوں نظر آتے ہیں؟
جواب:
آج کا نوجوان بیک وقت کئی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ تعلیم، روزگار، مستقبل کی فکر، مالی مشکلات، سماجی مقابلہ، خاندانی توقعات اور سوشل میڈیا نے اس دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
نوجوان ہر وقت دوسروں کی کامیابیاں دیکھتا ہے، لیکن ان کامیابیوں کے پیچھے موجود جدوجہد، ناکامیاں اور مشکلات اسے نظر نہیں آتیں۔ ہمیں نوجوانوں کو صرف کامیاب ہونے کا دباؤ نہیں دینا چاہیے بلکہ انہیں ناکامی سے نمٹنے، جذبات کو منظم کرنے اور حقیقی خود اعتمادی پیدا کرنے کی تربیت بھی دینی چاہیے۔
سوال 4: سوشل میڈیا ہماری ذہنی صحت کو کس طرح متاثر کر رہا ہے؟
جواب:
سوشل میڈیا بذاتِ خود دشمن نہیں؛ اصل مسئلہ اس کا غیر متوازن اور غیر ضروری استعمال ہے۔
مسلسل دوسروں سے موازنہ، ہر وقت دوسروں کی منظوری حاصل کرنے کی خواہش اور مثالی زندگیوں کی نمائش احساسِ کمتری اور بےاطمینانی کو جنم دے سکتی ہے۔
نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی تصویر کسی انسان کی مکمل حقیقت نہیں ہوتی۔ ڈیجیٹل زندگی کے ساتھ حقیقی تعلقات، جسمانی سرگرمی، مطالعہ اور کچھ وقت خاموشی اور اپنی ذات کے لیے نکالنا بھی ضروری ہے۔
سوال 5: خواتین کی ذہنی صحت کے حوالے سے سب سے اہم مسئلہ کیا ہے؟
جواب:
بہت سی خواتین دوسروں کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دیتی ہیں۔ گھر، بچوں، ملازمت اور سماجی توقعات کے درمیان وہ اپنی ذہنی اور جذباتی تھکن کو معمول سمجھنے لگتی ہیں۔
اپنی دیکھ بھال خود غرضی نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ ایک ذہنی اور جذباتی طور پر صحت مند عورت بہتر ماں، بیٹی، شریکِ حیات، پیشہ ور اور معاشرے کی زیادہ مؤثر رکن بن سکتی ہے۔
سوال 6: والدین اپنے بچوں کی ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
جواب:
سب سے پہلے بچوں کو سننا سیکھیں۔ ہر گفتگو کو نصیحت یا لیکچر میں تبدیل نہ کریں۔ بچے کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ اپنی غلطی، خوف، پریشانی یا ناکامی بلاخوف والدین کے ساتھ شیئر کرسکتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ صرف نمبروں اور گریڈز پر توجہ دینے کے بجائے بچے کے کردار، کوشش، اعتماد اور جذباتی ذہانت کو بھی اہمیت دیں۔
جس گھر میں بچے کو اپنے جذبات بیان کرنے کی آزادی حاصل ہو، وہ گھر بچے کے لیے ایک مضبوط نفسیاتی حفاظتی حصار بن جاتا ہے۔
سوال 7: کیا مثبت سوچ ہر نفسیاتی مسئلے کا حل ہے؟
جواب:
نہیں۔ کسی پریشان شخص سے صرف یہ کہنا کہ “مثبت سوچو” بعض اوقات اس کی تکلیف کو غیر اہم بنا دیتا ہے۔
مثبت نفسیات کا مطلب حقیقت سے آنکھیں چرانا نہیں بلکہ مشکل کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں، امید، مقصد اور مسائل سے نمٹنے کی مہارتوں کو بروئے کار لانا ہے۔
اگر علامات شدید یا مسلسل ہوں تو باقاعدہ پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔
سوال 8: آپ نے CBT، Mindfulness اور Emotional Freedom Technique پر تحقیق کیوں کی؟
جواب:
میری دلچسپی ایسے مداخلتی اور علاجی طریقوں میں رہی ہے جنہیں سائنسی بنیادوں پر جانچا اور پرکھا جا سکے اور جن کے ذریعے جذباتی تکلیف کم کرنے میں ممکنہ مدد حاصل ہو۔
اسی مقصد کے تحت میں نے اپنی تحقیق میں EFT کا باقاعدہ تحقیقی ڈیزائن کے تحت مطالعہ کیا۔ میرا اصول واضح ہے کہ کسی بھی علاج یا مداخلتی طریقے کی اہمیت اس وقت بڑھتی ہے جب اسے مناسب سائنسی شواہد کی بنیاد پر پیش کیا جائے۔
سوال 9: کیا پاکستان میں نفسیاتی خدمات عام آدمی کی پہنچ میں ہیں؟
جواب:
ابھی اس حوالے سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں میں سہولیات میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ملک کے بہت سے علاقوں میں تربیت یافتہ ماہر
