
ہمیں دوسروں کی Validation یقین دہانی اور توثیق کیوں چاہیے؟
تحریر: ڈاکٹر شازیہ شہزادی
تعارف
پروفیسر ڈاکٹر شازیہ شہزادی گزشتہ 26 برس سے زائد عرصے سے نفسیات، ذہنی صحت، تدریس، تحقیق اور تعلیمی قیادت سے وابستہ ہیں۔ وہ سوشل اینڈ بیہیویئرل سائنسز میں پی ایچ ڈی ہیں اور ملائیشیا میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ فیلو کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ ان کی تحقیق کے اہم موضوعات میں خود اعتمادی، جذباتی صحت، ذہنی دباؤ، سماجی تعلقات اور نفسیاتی بہبود شامل ہیں۔
تعریف، قبولیت اور اہمیت کی وہ خاموش طلب جو ہماری زندگیوں کو چلاتی ہے
انسان بظاہر کتنا ہی مضبوط، خوداعتماد اور خودکفیل کیوں نہ دکھائی دے، اس کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں یہ خواہش ضرور موجود ہوتی ہے کہ کوئی اسے سمجھے، سراہے، قبول کرے اور یہ احساس دلائے کہ اس کی ذات، محنت، جذبات اور وجود اہم ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہماری بات سن کر کہے: “آپ درست کہہ رہے ہیں”، “آپ نے بہت اچھا کیا”، “مجھے آپ پر فخر ہے”، “آپ کی تکلیف واقعی بڑی ہے”، یا کم از کم “میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔”
نفسیات کی زبان میں اس عمل کو توثیق یا ویلیڈیشن Validation کہا جاتا ہے۔ توثیق کا مطلب یہ نہیں کہ کسی شخص کی ہر بات کو درست تسلیم کر لیا جائے۔ اس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ اس کے احساسات، تجربات اور نقطۂ نظر کو اہمیت دی جائے۔ انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ نظرانداز نہیں ہوا، اس کی بات سنی گئی ہے اور اس کے جذبات بے معنی نہیں ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کی خوشی، خوداعتمادی، فیصلے اور اپنی قدر کا احساس مکمل طور پر دوسروں کی رائے کے تابع ہو جائے۔ پھر تعریف ملے تو وہ خود کو کامیاب سمجھتا ہے، تنقید ہو تو خود کو ناکام۔ لوگ توجہ دیں تو خوش، نظرانداز کریں تو بے چین۔ سوشل میڈیا پر پسندیدگی ملے تو مطمئن، ردعمل کم آئے تو دل شکستہ۔
سوال یہ ہے کہ انسان کو دوسروں کی توثیق validation کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟ کیا یہ کمزوری ہے یا ایک فطری انسانی ضرورت؟ اور کب یہ ضرورت ایک جذباتی انحصار میں تبدیل ہو جاتی ہے؟
توثیق Validation کیا ہے؟*
توثیق سے مراد کسی انسان کے احساسات، تجربات، محنت یا وجود کو تسلیم کرنا ہے۔ مثال کے طور پر ایک خاتون پورا دن گھر، بچوں، ملازمت اور بزرگ والدین کی ذمہ داریاں نبھاتی ہے۔ رات کو وہ تھکن کا اظہار کرتی ہے۔ اگر شوہر اسے یہ کہے:
“آپ تو سارا دن گھر میں ہوتی ہیں، اتنی تھکن کس بات کی ہے؟” تو اس کے احساسات کو رد کیا گیا۔
لیکن اگر وہ کہے: “میں دیکھ رہا ہوں کہ آج آپ نے بہت کام کیا ہے۔ آپ واقعی تھک گئی ہوں گی۔ کچھ دیر آرام کر لیں۔” تو یہ جذباتی توثیق emotional validation ہے۔
اسی طرح ایک بچہ امتحان میں کم نمبر آنے پر رو رہا ہو۔ والد اسے کہیں: “اس میں رونے والی کیا بات ہے؟ اتنے بھی برے نمبر نہیں آئے۔” تو بچہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا دکھ اہم نہیں۔
اگر والد کہیں:
“مجھے معلوم ہے تم نے محنت کی تھی، اس لیے کم نمبر آنے سے تمہیں دکھ ہوا ہے۔ آؤ دیکھتے ہیں کہاں مشکل ہوئی۔” تو بچے کے احساسات کو تسلیم کرتے ہوئے اسے حل کی طرف لے جایا گیا۔
توثیق validation کا تعلق صرف تعریف سے نہیں۔ کسی کے دکھ، خوف، غصے، مایوسی، بے یقینی اور الجھن کو سمجھنا بھی توثیق ہے۔
انسان ایک سماجی مخلوق ہے
انسان تنہائی میں پروان نہیں چڑھتا۔ ہماری شخصیت، سوچ، زبان، خوداعتمادی اور شناخت دوسروں کے ساتھ تعلقات کے اندر تشکیل پاتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی دوسروں کی توجہ، لمس، آواز اور ردعمل کا محتاج ہوتا ہے۔ وہ اپنی ماں کے چہرے کے تاثرات سے یہ جانتا ہے کہ دنیا محفوظ ہے یا خطرناک. جب بچہ مسکراتا ہے اور ماں جواب میں مسکراتی ہے، تو اس کے ذہن میں یہ پیغام جاتا ہے: “میں اہم ہوں، میری موجودگی دوسروں کے لیے خوشی کا سبب ہے۔”
جب بچہ روتا ہے اور کوئی اسے اٹھا لیتا ہے، تو وہ سیکھتا ہے: “میری تکلیف محسوس کی جاتی ہے، میں اکیلا نہیں ہوں۔”
اگر بچہ بار بار پکارے اور کوئی نہ آئے، اس کی بات کا مذاق اڑایا جائے، اسے خاموش کرایا جائے یا اس کے جذبات کو نظرانداز کیا جائے، تو وہ رفتہ رفتہ یہ ماننے لگتا ہے:
“شاید میرے جذبات اہم نہیں۔ شاید مجھے محبت حاصل کرنے کے لیے کوئی خاص کام کرنا پڑے گا۔”
اسی مرحلے سے بیرونی توثیق External valuation کی شدید ضرورت جنم لے سکتی ہے۔
بچپن میں تعریف کی کمی
بہت سے بالغ افراد آج بھی اپنے بچپن کی وہ تعریف تلاش کر رہے ہوتے ہیں جو انہیں کبھی نہیں ملی۔ بعض گھروں میں بچوں کی کامیابی کو معمول سمجھا جاتا ہے لیکن غلطی کو بہت بڑا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ بچہ آٹھ مضامین میں اچھے نمبر لے آئے اور ایک مضمون میں کم نمبر ہوں تو والدین کہتے ہیں: “ریاضی میں اتنے کم نمبر کیوں آئے؟”
بچے کی آٹھ کامیابیاں نظرانداز ہو جاتی ہیں اور ایک کمزوری اس کی پوری شناخت بن جاتی ہے۔ ایک لڑکی گھر کا کام کرے، چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالے، پڑھائی میں اچھی ہو، پھر بھی اسے کبھی یہ نہ کہا جائے:
“ہمیں تم پر فخر ہے۔”
لیکن معمولی غلطی پر سننے کو ملے: “تم سے کوئی کام ٹھیک نہیں ہوتا۔”
تو وہ بڑی ہو کر ہر رشتے میں اپنی اہمیت ثابت کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ وہ دوسروں کو خوش رکھنے، حد سے زیادہ قربانیاں دینے اور ہر وقت تعریف حاصل کرنے کی خواہش میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات ایک اعلیٰ عہدے پر پہنچا ہوا شخص بھی اپنے والد کی ایک تحسین بھری نظر کا منتظر ہوتا ہے۔ وہ کئی ڈگریاں، اعزازات اور کامیابیاں حاصل کر لیتا ہے، مگر اندر سے اب بھی وہی بچہ ہوتا ہے جو سننا چاہتا ہے: “مجھے تم پر فخر ہے۔”
مشروط محبت کا تجربہ*
اگر بچے کو یہ احساس ہو کہ اسے صرف اچھے نمبروں، فرمانبرداری، خوب صورتی، کامیابی یا دوسروں کو خوش رکھنے کی صورت میں محبت ملے گی، تو وہ محبت کو مشروط سمجھنے لگتا ہے۔
مثلاً: “اچھے نمبر لاؤ گے تو ابو خوش ہوں گے۔” “چپ رہو گی تو سب تمہیں اچھی بچی کہیں گے۔” “تم موٹی ہو رہی ہو، لوگ کیا کہیں گے؟” “اپنے بھائی کو دیکھو، وہ تم سے کتنا بہتر ہے۔”
اس ماحول میں پلنے والا بچہ اپنی اصل شخصیت کو قبول نہیں کر پاتا۔ وہ دوسروں کی توقعات کے مطابق کردار ادا کرتا ہے۔ جوانی میں بھی وہ خود سے یہ سوال نہیں کرتا:
“میں کیا چاہتا ہوں؟”
بلکہ سوچتا ہے: “لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟”
ایسے افراد اکثر اپنا لباس، پیشہ، شادی، تعلیم، رہائش اور طرزِ زندگی بھی دوسروں کی منظوری کے مطابق منتخب کرتے ہیں۔
موازنہ ہماری خودقدری کو زخمی کرتا ہے*
ہمارے معاشرے میں موازنہ بہت عام ہے۔ والدین بہن بھائیوں کا موازنہ کرتے ہیں، اساتذہ طلبہ کا، خاندان بہوؤں اور دامادوں کا، اور معاشرہ عورتوں اور مردوں کی کامیابیوں کا۔
“دیکھو تمہاری کزن ڈاکٹر بن گئی ہے۔”
“اس کے بچے کتنے ذہین ہیں۔”
“تمہاری بہن تم سے زیادہ خوب صورت ہے۔”
“فلاں کے شوہر نے اسے گاڑی لے کر دی ہے۔”
“اس عمر میں لوگ گھر بنا لیتے ہیں۔”
مسلسل موازنہ انسان کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنی جگہ کافی نہیں۔ اسے اپنی قدر ثابت کرنے کے لیے دوسروں سے بہتر ہونا ضروری ہے۔ نتیجتاً اس کی توجہ ذاتی ترقی سے ہٹ کر مقابلے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
ایک خاتون اپنی زندگی میں مطمئن ہو سکتی ہے، لیکن جیسے ہی وہ کسی دوسری خاتون کی بیرون ملک سفر، مہنگے لباس یا کامیاب بچوں کی تصاویر دیکھتی ہے، اسے اپنی زندگی کمتر محسوس ہونے لگتی ہے۔
ایک شخص اچھی ملازمت کر رہا ہوتا ہے، مگر دوست کی ترقی کی خبر سن کر اپنی کامیابی بھول جاتا ہے۔ اسے فوری طور پر کسی ایسے شخص کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو اسے یقین دلائے کہ وہ بھی کامیاب ہے۔
رد کیے جانے کا خوف
انسان کے لیے تعلق سے خارج ہونا جذباتی طور پر بہت تکلیف دہ ہے۔ اسی لیے ہم اکثر دوسروں کی منظوری اس خوف سے چاہتے ہیں کہ کہیں وہ ہمیں مسترد نہ کر دیں۔
یہ خوف مختلف شکلوں میں سامنے آتا ہے:
- اختلاف سے بچنا
- ہر بات پر ہاں کہنا
- دوسروں کو ناراض نہ کرنے کی کوشش
- اپنی ضرورت قربان کر دینا
- غلط رویہ برداشت کرنا
- اپنی رائے چھپا لینا
- رشتے ٹوٹنے کے خوف سے حدیں قائم نہ کرنا
مثلاً ایک ملازم جانتا ہے کہ اس پر اضافی کام ڈالا جا رہا ہے، لیکن وہ انکار نہیں کرتا کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ افسر اسے غیر ذمہ دار سمجھے گا۔ اور ملازمت سے نکال دے گا-
ایک خاتون خاندان کے ہر فرد کی خدمت کرتی ہے، خواہ اس کی صحت خراب ہو، کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ انکار کرنے پر اسے خودغرض کہا جائے گا۔
ایک نوجوان دوستوں کے دباؤ میں ایسی سرگرمی میں شامل ہو جاتا ہے جو اسے پسند نہیں، صرف اس لیے کہ کہیں دوست اسے بور یا کمزور نہ سمجھیں۔
یہاں توثیق؛ validation کی طلب دراصل قبولیت کھونے کے خوف سے پیدا ہوتی ہے۔
گھر میں جذباتی توثیق کی کمی
بعض گھروں میں مادی ضروریات پوری کی جاتی ہیں، لیکن جذباتی ضروریات کو اہم نہیں سمجھا جاتا۔ والدین بچوں کو اچھا کھانا، لباس اور تعلیم دیتے ہیں، مگر ان کی بات سننے، ان کی پریشانی سمجھنے یا ان کے جذبات تسلیم کرنے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔
ایک بیٹا نوکری کے دباؤ سے پریشان ہو اور والد کہیں: “ہم نے تم سے زیادہ مشکل وقت دیکھا ہے۔”
ایک بیٹی شادی کے مسئلے پر پریشان ہو اور ماں کہے:
“ہر لڑکی کو یہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے۔”
شوہر اپنی ناکامی کا ذکر کرے اور بیوی فوراً کہے:
“میں نے پہلے ہی کہا تھا ایسا ہو گا۔”
بیوی کسی دکھ کا اظہار کرے اور شوہر موبائل دیکھتے ہوئے صرف “اچھا” کہہ دے۔
ایسے ردعمل انسان کے دکھ کو کم نہیں کرتے بلکہ اسے مزید تنہا کر دیتے ہیں۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس کے جذبات غیر ضروری ہیں۔ پھر وہ گھر کے بجائے باہر ایسے لوگوں کی تلاش کرتا ہے جو اسے سنیں، سمجھیں اور اہمیت دیں۔
ازدواجی رشتوں میں توثیق validation کی اہمیت
بہت سے میاں بیوی کے جھگڑے اصل مسئلے سے زیادہ توثیق validation کی کمی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اکثر ایک فریق حل نہیں مانگ رہا ہوتا، صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی بات پوری توجہ سے سنی جائے۔
مثلاً بیوی کہتی ہے: “میں سارا دن بچوں اور کام کی وجہ سے بہت تھک گئی ہوں۔” شوہر فوراً مشورہ دیتا ہے: “تو کام کم کر دو۔”
ممکن ہے بیوی کو اس وقت مشورہ نہ چاہیے ہو۔ وہ صرف یہ سننا چاہتی ہو:
“واقعی آج تم پر بہت زیادہ بوجھ رہا۔”
اسی طرح شوہر کہتا ہے:
“دفتر میں میری محنت کو کوئی نہیں دیکھتا۔”
بیوی جواب دیتی ہے:
“آپ کو ہر بات کا بہت اثر ہوتا ہے۔”
یہ جواب اس کی تکلیف کو رد کر دیتا ہے۔
اگر وہ کہے: “آپ نے واقعی بہت محنت کی ہے۔ یہ تکلیف دہ ہے کہ آپ کو اس کا کریڈٹ نہیں ملا۔” تو شوہر کو محسوس ہو گا کہ اسے سمجھا گیا ہے۔
تعلقات میں ہر مسئلہ حل کرنا ضروری نہیں، مگر ایک دوسرے کے جذبات کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
سوشل میڈیا اور توثیق validation کی نئی دنیا
سوشل میڈیا نے توثیق کی انسانی ضرورت کو اعداد میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب محبت، توجہ اور مقبولیت کو پسندیدگی، تبصروں، شیئرز اور فالوورز سے ناپا جاتا ہے۔ تصویر پوسٹ کرنے کے بعد بار بار موبائل دیکھنا، کم لائکس پر تصویر حذف کر دینا، کسی خاص شخص کے ردعمل کا انتظار کرنا، دوسروں کی پوسٹس سے اپنی زندگی کا موازنہ کرنا اور تعریف نہ ملنے پر اداس ہونا، یہ سب بیرونی توثیق External validation کی علامات ہو سکتی ہیں۔
ایک نوجوان اپنی تصویر پوسٹ کرتا ہے۔ پہلے گھنٹے میں کم ردعمل آتا ہے۔ وہ سوچتا ہے: “شاید میں اچھا نہیں لگ رہا۔” حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کا ردعمل کئی وجوہات کی بنا پر کم ہو سکتا ہے، لیکن وہ اسے اپنی ذاتی قدر سے جوڑ لیتا ہے۔
ایک خاتون روزانہ اپنی مصروف، خوش حال اور خوب صورت زندگی دکھاتی ہے، جبکہ حقیقت میں وہ تنہائی، ازدواجی پریشانی یا بے اطمینانی کا شکار ہو سکتی ہے۔ آن لائن تعریف اسے کچھ وقت کے لیے اچھا محسوس کراتی ہے، مگر اندرونی خلا برقرار رہتا ہے۔
سوشل میڈیا کا مسئلہ استعمال نہیں، بلکہ یہ یقین ہے کہ ہماری قدر کا فیصلہ لوگوں کی اسکرین پر ہونے والے ردعمل سے ہو گا۔
ظاہری خوب صورتی اور توثیق validation
معاشرے میں خصوصاً خواتین کو ظاہری شکل کی بنیاد پر بہت زیادہ جانچا جاتا ہے۔ بچپن سے ہی رنگ، وزن، قد، بال، لباس اور چہرے پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔
“تمہارا رنگ دب گیا ہے۔”
“وزن بڑھ گیا ہے۔”
“یہ لباس تم پر اچھا نہیں لگ رہا۔”
“فلاں تم سے زیادہ جوان لگتی ہے۔”
بار بار ایسی باتیں سن کر انسان اپنے جسم کو دوسروں کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر آئینہ صرف چہرہ نہیں دکھاتا بلکہ معاشرتی فیصلے سناتا ہے۔
بعض افراد ہر محفل میں یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کیسے لگ رہے ہیں۔ بار بار پوچھتے ہیں:
“میں موٹی تو نہیں لگ رہی؟” “یہ رنگ مجھ پر اچھا لگ رہا ہے؟” “میں بوڑھی تو نہیں لگ رہی؟”
یہ سوال ہمیشہ ظاہری معلومات کے لیے نہیں ہوتے۔ اکثر ان کے پیچھے یہ خواہش ہوتی ہے: “مجھے یقین دلاؤ کہ میں اب بھی قابلِ قبول ہوں۔”
تعلیمی کامیابی اور توثیق validation
طلبہ کی ایک بڑی تعداد سیکھنے کے بجائے تعریف، گریڈ اور والدین کی منظوری کے لیے پڑھتی ہے۔ اچھا نتیجہ انہیں صرف خوشی نہیں دیتا بلکہ اپنی قدر کا ثبوت محسوس ہوتا ہے۔ جب نمبر کم آئیں تو وہ صرف نتیجے سے مایوس نہیں ہوتے بلکہ اپنی ذات پر شک کرنے لگتے ہیں:
“میں ذہین نہیں ہوں۔”
“میں والدین کو مایوس کر چکا ہوں۔”
“لوگ میرا مذاق اڑائیں گے۔”
بعض والدین بچوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ان کی عزت بچے کے نمبروں سے وابستہ ہے۔ نتیجتاً بچہ علم کی محبت کے بجائے ناکامی کے خوف میں پڑھتا ہے۔
ایک طالب علم جو ہمیشہ پہلی پوزیشن لیتا رہا ہو، یونیورسٹی میں معمولی گریڈ آنے پر شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے، کیونکہ اس نے اپنی پوری شناخت “سب سے بہترین” ہونے پر قائم کی ہوتی ہے۔
ملازمت اور پیشہ ورانہ زندگی میں توثیق validation
دفتر میں ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی محنت دیکھی جائے۔ مناسب تعریف ملازمین کی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہے، لیکن بعض اوقات انسان ترقی، عہدے اور تعریف کو اپنی مکمل شناخت بنا لیتا ہے۔ وہ کئی گھنٹے اضافی کام کرتا ہے، چھٹی نہیں لیتا، ہر ذمہ داری قبول کرتا ہے اور اپنے افسر کی خوشنودی کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ اگر تعریف نہ ملے تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک محنتی ملازم برسوں ادارے میں کام کرتا ہے۔ ترقی کسی اور کو مل جاتی ہے۔ اسے صرف عہدہ نہ ملنے کا دکھ نہیں ہوتا بلکہ یہ احساس بھی ہوتا ہے:
“شاید میری کوئی قدر نہیں۔”
یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی کارکردگی کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے، بہتری کی کوشش کرے، مگر اپنی پوری ذاتی قدر کو ادارے کے فیصلے کے حوالے نہ کرے۔ عہدہ انسان کی ذمہ داری بتاتا ہے، اس کی مکمل حیثیت نہیں۔
لوگوں کو خوش رکھنے کی عادت*
دوسروں کو خوش رکھنا بظاہر اچھی عادت محسوس ہوتی ہے، لیکن جب انسان اپنی ضرورت، صحت اور عزتِ نفس قربان کر کے سب کو خوش رکھنے لگے تو یہ جذباتی مسئلہ بن جاتا ہے۔
ایسے شخص کو “نہیں” کہنا مشکل لگتا ہے۔ وہ خوف محسوس کرتا ہے کہ لوگ اسے خودغرض، بدتمیز یا بے حس کہیں گے۔ گھر میں مہمان آ جائیں تو وہ اپنی بیماری کے باوجود کام کرتا رہتا ہے۔ دفتر میں کوئی اپنی ذمہ داری اس پر ڈال دے تو وہ قبول کر لیتا ہے۔ رشتہ دار مالی مدد مانگیں تو اپنی ضرورت چھوڑ دیتا ہے۔ دوست ہر وقت فون کریں تو وہ تھکن کے باوجود سنتا رہتا ہے۔ بعد میں وہ اندر ہی اندر شکایت کرتا ہے: “میں سب کے لیے کرتا ہوں، میرے لیے کوئی نہیں کرتا۔”
حقیقت یہ ہے کہ اس نے دوسروں کو اپنی حدود نہیں بتائیں۔ وہ توثیق validation حاصل کرنے کے لیے خدمت کر رہا تھا، لیکن جب مطلوبہ تعریف نہ ملی تو ناراضی پیدا ہوئی۔ محبت سے مدد کرنا اور منظوری خریدنے کے لیے خود کو ختم کر دینا دو مختلف باتیں ہیں۔
تنقید برداشت نہ کر پانا
جو شخص اپنی قدر کے لیے مکمل طور پر دوسروں پر منحصر ہو، اس کے لیے معمولی تنقید بھی ذاتی حملہ بن جاتی ہے۔
افسر کہے: “اس رپورٹ میں چند تبدیلیاں ضروری ہیں۔” وہ سوچتا ہے: “انہیں میرا کام پسند نہیں۔ شاید میں ناکام ہوں۔”
شوہر کہے: “آج کھانے میں نمک زیادہ ہے۔” بیوی محسوس کرتی ہے: “میری کسی محنت کی قدر نہیں۔”
دوست مصروفیت کی وجہ سے جواب نہ دے تو خیال آتا ہے: “وہ مجھے اہم نہیں سمجھتا۔”
ہر واقعے کو اپنی ذات کی نفی سمجھنا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ انسان کے اندر خودتوثیق Self-validation کمزور ہے۔ تنقید ہمیشہ بے قدری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ صرف کسی کام، فیصلے یا رویے پر رائے ہوتی ہے، پوری شخصیت پر فیصلہ نہیں۔
کامیابی کے باوجود بے اطمینانی
بعض لوگ مسلسل کامیابیاں حاصل کرتے ہیں، لیکن مطمئن نہیں ہو پاتے۔ ایک ڈگری کے بعد دوسری، ایک عہدے کے بعد دوسرا، ایک اعزاز کے بعد اگلا اعزاز۔ انہیں خوشی ملتی ہے، مگر بہت مختصر مدت کے لیے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ کامیابی اپنے مقصد کے لیے نہیں بلکہ دوسروں سے اعتراف حاصل کرنے کے لیے حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ خاندان انہیں سب سے کامیاب سمجھے، دوست متاثر ہوں، مخالفین خاموش ہو جائیں اور معاشرہ ان کی اہمیت تسلیم کرے۔ جب کامیابی کا شور ختم ہوتا ہے تو اندر کا خلا دوبارہ سامنے آ جاتا ہے۔ پھر نئی کامیابی کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔
ایسے شخص کو رک کر خود سے پوچھنا چاہیے:
“اگر کوئی میری تعریف نہ کرے تو کیا میں پھر بھی یہ کام کرنا چاہوں گا؟”
“کیا یہ میرا حقیقی مقصد ہے یا خود کو ثابت کرنے کی کوشش؟”
توثیق validation کی طلب ہمیشہ کمزوری نہیں
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دوسروں سے تعریف، محبت اور جذباتی تسلیم چاہنا غیر معمولی بات نہیں۔ ہر انسان کو تعلق، حوصلہ افزائی اور قبولیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک بچے کو والدین کی تحسین چاہیے۔
ایک شریکِ حیات کو اپنے ساتھی کی توجہ چاہیے۔
ایک ملازم کو اپنی محنت کا اعتراف چاہیے۔
ایک دوست کو یہ یقین چاہیے کہ وہ اہم ہے۔
مسئلہ ضرورت میں نہیں، مکمل انحصار میں ہے۔
صحت مند حالت یہ ہے:
“مجھے آپ کی تعریف اچھی لگتی ہے، مگر میری قدر صرف اس پر منحصر نہیں۔”
غیر صحت مند حالت یہ ہے:
“جب تک آپ میری تعریف نہ کریں، میں خود کو قابل نہیں سمجھ سکتا۔”
جذباتی توثیق اور اتفاق میں فرق
کسی کے جذبات کی توثیق validation کرنے کا مطلب اس کی ہر بات سے اتفاق کرنا نہیں۔ ایک نوجوان کہتا ہے: “مجھے بہت غصہ آ رہا ہے، میں گھر چھوڑ دینا چاہتا ہوں۔” والد یہ کہہ سکتے ہیں: “میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم اس وقت شدید غصے میں ہو۔ لیکن غصے میں گھر چھوڑنا محفوظ فیصلہ نہیں۔ پہلے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔”
یہاں جذبات کو تسلیم کیا گیا لیکن نقصان دہ فیصلے کی حمایت نہیں کی گئی۔
اسی طرح ایک دوست کہتی ہے: “میرا دل چاہتا ہے میں اس شخص سے بدلہ لوں۔” آپ کہہ سکتے ہیں: “تمہیں جس طرح تکلیف پہنچی، اس کے بعد غصہ آنا فطری ہے۔ لیکن بدلہ لینے سے مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔”
یہ صحت مند توثیق validation ہے: احساس کو سمجھنا، مگر ہر عمل کو درست قرار نہ دینا۔
خودتوثیق Self-validation کیا ہے؟
خودتوثیق کا مطلب ہے اپنے احساسات، کوششوں اور تجربات کو خود تسلیم کرنا۔ یہ کہنا: “میں واقعی تھکا ہوا ہوں، مجھے آرام کی ضرورت ہے۔” “یہ واقعہ میرے لیے تکلیف دہ تھا، خواہ دوسرے اسے معمولی سمجھیں۔” “میں نے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کی۔” “میری غلطی ہوئی، مگر میں مکمل طور پر ناکام انسان نہیں ہوں۔”
“میری رائے دوسروں سے مختلف ہو سکتی ہے، پھر بھی اہم ہے۔”
خودتوثیق انسان کو خودپسند نہیں بناتی بلکہ جذباتی طور پر متوازن کرتی ہے۔ جو شخص اپنی قدر جانتا ہے، اسے ہر وقت دوسروں سے یقین دہانی مانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اپنی قدر کو کامیابی سے الگ کریں
ہم اکثر کہتے ہیں: “میں کامیاب ہوں، اس لیے قابلِ قدر ہوں۔”
لیکن زیادہ صحت مند سوچ یہ ہے: “میں انسان ہونے کے ناطے قابلِ احترام ہوں، اور کامیابی میری زندگی کا ایک حصہ ہے۔”
ملازمت چلی جائے تو انسان کی مہارت، تجربہ اور کردار ختم نہیں ہو جاتے۔
شادی میں مسئلہ پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان محبت کے قابل نہیں۔
امتحان میں ناکامی کسی کی پوری ذہانت کا فیصلہ نہیں۔
بیماری، بڑھتی عمر یا جسمانی تبدیلیاں انسان کی بنیادی قدر کم نہیں کرتیں۔
جب ہم اپنی عزتِ نفس کو عہدے، دولت، خوب صورتی، رشتے یا شہرت سے باندھ دیتے ہیں تو ان میں تبدیلی کے ساتھ ہماری خودقدری بھی ہلنے لگتی ہے۔
اپنے اندرونی مکالمے پر توجہ دیں
انسان دوسروں کی توثیق validation اس وقت زیادہ مانگتا ہے جب اس کی اندرونی آواز مسلسل اسے تنقید کا نشانہ بناتی ہو۔
“تم کافی اچھے نہیں۔”
“تم سے غلطی ہو جائے گی۔”
“لوگ تمہیں پسند نہیں کرتے۔”
“تم دوسروں سے پیچھے ہو۔”
“تمہاری عمر نکل گئی۔”
یہ اندرونی جملے اکثر بچپن، معاشرتی موازنوں اور ماضی کے تلخ تجربات سے آتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ حقیقت ہوں۔ ان جملوں کو بدلنے کی مشق کی جا سکتی ہے:
“مجھ میں خامیاں ہیں، مگر صلاحیتیں بھی ہیں۔”
“غلطی میری تربیت کا حصہ ہے۔”
“ہر شخص کا مجھے پسند کرنا ضروری نہیں۔”
“میری رفتار مختلف ہو سکتی ہے۔”
“عمر کے ہر مرحلے میں نئی شروعات ممکن ہے۔”
روزمرہ زندگی میں خودتوثیق کی مشق
صبح آئینے میں صرف ظاہری خامیاں تلاش کرنے کے بجائے خود سے کہیں:
“میں اپنے جسم کا شکر گزار ہوں جو روز میرا ساتھ دیتا ہے۔”
کسی کام میں ناکامی پر کہیں: “نتیجہ میری توقع کے مطابق نہیں آیا، لیکن میری کوشش بے معنی نہیں تھی۔”
تنقید سننے کے بعد کہیں:
“میں مفید بات لے سکتا ہوں، باقی کو اپنی شخصیت کا فیصلہ نہیں بناؤں گا۔” کوئی پیغام کا جواب نہ دے تو فوراً یہ نتیجہ نہ نکالیں کہ آپ غیر اہم ہیں۔ ممکن ہے دوسرا شخص مصروف، پریشان یا تھکا ہوا ہو۔
کسی تقریب میں تعریف نہ ملے تو خود سے کہیں:
“میری خوب صورتی یا وقار دوسروں کے تبصرے سے پیدا نہیں ہوتا۔”
یہ چھوٹے جملے آہستہ آہستہ اندرونی تحفظ پیدا کرتے ہیں۔
والدین بچوں کو صحت مند توثیق Validation کیسے دیں؟
بچے کی صرف کامیابی نہیں، کوشش کی تعریف کریں۔ “تم نے بہت محنت کی، یہ قابلِ تعریف ہے۔”
اس کے جذبات کو نام دیں:
“شاید تم اداس ہو کیونکہ دوست نے تمہیں کھیل میں شامل نہیں کیا۔”
فوراً وعظ یا حل نہ دیں۔ پہلے بات سنیں۔
بچے کو یہ نہ کہیں: “لڑکے نہیں روتے۔” “اچھی بچیاں غصہ نہیں کرتیں۔”
اس کے بجائے کہیں: “رونا اور غصہ محسوس کرنا فطری ہے، لیکن ہمیں اپنے رویے کو مناسب رکھنا ہے۔”
بچے کو دوسروں سے کم موازنہ کریں اور اس کی ذاتی بہتری پر توجہ دیں۔
سب سے اہم بات یہ کہ بچے کو یہ یقین دیں: “ہم تم سے صرف کامیابی کی وجہ سے محبت نہیں کرتے۔”
ازدواجی زندگی میں توثیق validation کے جملے
روزمرہ زندگی میں چند سادہ جملے تعلقات کو بدل سکتے ہیں:
“میں آپ کی بات سن رہا ہوں۔” “آپ کے لیے یہ صورتِ حال واقعی مشکل ہو گی۔” “آپ نے گھر اور بچوں کے لیے بہت محنت کی ہے۔” “مجھے خوشی ہے کہ آپ نے یہ بات مجھ سے شیئر کی۔” “میں آپ سے متفق نہ بھی ہوں، پھر بھی آپ کے احساسات سمجھنا چاہتا ہوں۔” “آپ کی کوشش میرے لیے اہم ہے۔” “آج آپ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں، میں کیا مدد کر سکتا ہوں؟”
کبھی کبھی ایک سچا جملہ مہنگے تحفے سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔
دوسروں کی رائے سے مکمل آزادی ممکن نہیں
بعض لوگ خودانحصاری کے نام پر کہتے ہیں:
“مجھے کسی کی پروا نہیں۔”
لیکن مکمل طور پر دوسروں سے بے نیاز ہونا نہ حقیقت پسندانہ ہے نہ صحت مند۔ ہم سب تعلقات میں رہتے ہیں۔ ہمیں قابلِ اعتماد لوگوں کی رائے، محبت اور حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ انسان کسی کی بات نہ سنے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر آواز کو اپنی تقدیر کا فیصلہ نہ بنائے۔ دانشمند انسان مفید رائے قبول کرتا ہے، تعمیری تنقید سے سیکھتا ہے، محبت کو محسوس کرتا ہے، لیکن اپنی مکمل شناخت دوسروں کے حوالے نہیں کرتا۔
حدود قائم کرنا سیکھیں*
صحت مند خودقدری کا ایک اہم حصہ حدود قائم کرنا ہے۔ ہر درخواست ماننا ضروری نہیں۔ ہر شخص کو وضاحت دینا ضروری نہیں۔ ہر تنقید کا جواب دینا ضروری نہیں۔
آپ کہہ سکتے ہیں:
“میں اس وقت یہ ذمہ داری نہیں لے سکتا۔”
“اس انداز میں بات کرنا میرے لیے قابلِ قبول نہیں۔”
“مجھے سوچنے کے لیے وقت چاہیے۔”
“میں آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں، مگر میرا فیصلہ مختلف ہے۔”
“آج میری صحت اجازت نہیں دے رہی۔”
شروع میں لوگ ناراض ہو سکتے ہیں، خصوصاً وہ جو آپ کی بے حد دستیابی کے عادی ہوں۔ لیکن وقتی ناراضی سے بچنے کے لیے خود کو مسلسل نظرانداز کرنا اندرونی ناراضی اور تھکن پیدا کرتا ہے۔
اپنا جذباتی حلقہ درست منتخب کریں
ہر شخص ہماری گہری بات سننے کے قابل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ مذاق اڑاتے ہیں، کچھ فوراً فیصلہ سناتے ہیں اور کچھ ہماری کمزوری کو بعد میں ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
اپنے جذبات ایسے لوگوں کے ساتھ شیئر کریں جو: - توجہ سے سنیں
- راز کی حفاظت کریں
- ہر بات کو مقابلہ نہ بنائیں
- فوراً فیصلہ نہ سنائیں
- آپ کو کمزور نہ سمجھیں
- ضرورت پڑنے پر سچ بھی کہیں
صحت مند توثیق validation کا مطلب خوشامد نہیں۔ حقیقی دوست وہ ہے جو آپ کے احساس کو سمجھے، لیکن غلطی پر مناسب انداز سے متوجہ بھی کرے۔
کب پیشہ ورانہ مدد ضروری ہے؟
اگر انسان ہر وقت تعریف کا محتاج رہے، تنقید پر شدید ٹوٹ جائے، معمولی نظراندازی پر بے چینی محسوس کرے، زہریلے رشتے صرف تنہائی کے خوف سے برداشت کرے، اپنی رائے ظاہر نہ کر سکے، یا سوشل میڈیا کے ردعمل سے اس کا مزاج مسلسل متاثر ہو، تو ماہرِ نفسیات سے مشورہ مفید ہو سکتا ہے۔ خصوصاً جب توثیق validation کی ضرورت ماضی کے جذباتی زخم، والدین کی بے توجہی، مسلسل تنقید، مسترد کیے جانے، ازدواجی بدسلوکی یا کم خوداعتمادی سے جڑی ہو، تو صرف مثبت سوچ کافی نہیں ہوتی۔ انسان کو اپنے پرانے تجربات سمجھنے، جذبات کو منظم کرنے اور نئی نفسیاتی مہارتیں سیکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مدد لینا کمزوری نہیں بلکہ اپنی ذہنی صحت کو اہمیت دینا ہے۔
لوگوں کو توثیق validation دینا بھی سیکھیے
ہم سب توثیق validation چاہتے ہیں، مگر سوال یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کو کتنی توثیق دیتے ہیں؟ کیا ہم بچوں کی بات مکمل سنتے ہیں؟ کیا ہم اپنے شریکِ حیات کی محنت تسلیم کرتے ہیں؟ کیا ہم ملازمین کے اچھے کام کی تعریف کرتے ہیں؟ کیا ہم بزرگوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کی موجودگی اہم ہے؟ کیا ہم دوست کے دکھ کو فوراً اپنی کہانی سے بدل دیتے ہیں؟
بعض اوقات ایک شخص کئی دنوں سے صرف ایک جملے کا منتظر ہوتا ہے:
“میں تمہاری کوشش دیکھ رہا ہوں۔”
“تم میرے لیے اہم ہو۔”
“تمہارا دکھ حقیقی ہے۔”
“تم اکیلے نہیں ہو۔”
“مجھے تم پر فخر ہے۔”
یہ جملے کسی کا بوجھ ختم نہیں کرتے، مگر اسے بوجھ اٹھانے کی طاقت دے سکتے ہیں۔
نتیجہ: اپنی قدر کا اختیار واپس لیجیے
دوسروں سے محبت، تعریف، توجہ اور قبولیت چاہنا انسانی فطرت ہے۔ ہمیں تعلقات کی ضرورت ہے اور صحت مند توثیق validation ہماری جذباتی نشوونما کے لیے اہم ہے۔ لیکن جب ہم اپنی پوری قدر، خوشی اور شناخت دوسروں کے فیصلوں کے حوالے کر دیتے ہیں تو ہم ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں جس کی کوئی آخری منزل نہیں۔ لوگوں کی رائے بدلتی رہتی ہے۔ جو آج تعریف کرتے ہیں، کل تنقید کر سکتے ہیں۔ جو آج قریب ہیں، کل مصروف ہو سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا ردعمل، عہدہ، ظاہری شکل، دولت اور شہرت سب عارضی ہیں۔ انسانی سکون اس وقت بڑھتا ہے جب وہ یہ سمجھ لیتا ہے: “مجھے محبت اور تعریف کی خواہش ہے، مگر میری قدر صرف دوسروں کے ردعمل سے طے نہیں ہوتی۔”
“میری غلطیاں میری پوری شخصیت نہیں۔” “میں ہر شخص کو خوش نہیں کر سکتا۔” “میرا دکھ توجہ کے قابل ہے۔” “میری ضروریات بھی اہم ہیں۔” “میں خود کو وہ احترام دے سکتا ہوں جس کا انتظار میں دوسروں سے کرتا رہا ہوں۔”
توثیق validation کی سب سے پائیدار شکل یہ ہے کہ انسان خود سے دشمنی ختم کر دے۔ اپنی کوشش کو تسلیم کرے، اپنی خامیوں کے ساتھ خود کو قبول کرے، اپنی حدود قائم کرے اور اپنی زندگی ایسے اصولوں پر گزارے جو صرف لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے نہیں بلکہ اندرونی اطمینان کے لیے ہوں۔
دوسروں کی تعریف خوب صورت ہے، مگر آپ کی خوداعتمادی کی بنیاد نہیں ہونی چاہیے۔ محبت ضروری ہے، مگر اپنی ذات کو کھو کر نہیں۔ قبولیت قیمتی ہے، مگر ہر قیمت پر نہیں۔ آخرکار انسان کو یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ دنیا کی تالیاں خاموش بھی ہو جائیں، تب بھی اس کے وجود کی اہمیت باقی رہتی ہے۔ہمیں دوسروں کی Validation یقین دہانی اور توثیق کیوں چاہیے؟
تحریر: ڈاکٹر شازیہ شہزادی
تعارف
پروفیسر ڈاکٹر شازیہ شہزادی گزشتہ 26 برس سے زائد عرصے سے نفسیات، ذہنی صحت، تدریس، تحقیق اور تعلیمی قیادت سے وابستہ ہیں۔ وہ سوشل اینڈ بیہیویئرل سائنسز میں پی ایچ ڈی ہیں اور ملائیشیا میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ فیلو کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ ان کی تحقیق کے اہم موضوعات میں خود اعتمادی، جذباتی صحت، ذہنی دباؤ، سماجی تعلقات اور نفسیاتی بہبود شامل ہیں۔
تعریف، قبولیت اور اہمیت کی وہ خاموش طلب جو ہماری زندگیوں کو چلاتی ہے
انسان بظاہر کتنا ہی مضبوط، خوداعتماد اور خودکفیل کیوں نہ دکھائی دے، اس کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں یہ خواہش ضرور موجود ہوتی ہے کہ کوئی اسے سمجھے، سراہے، قبول کرے اور یہ احساس دلائے کہ اس کی ذات، محنت، جذبات اور وجود اہم ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہماری بات سن کر کہے: “آپ درست کہہ رہے ہیں”، “آپ نے بہت اچھا کیا”، “مجھے آپ پر فخر ہے”، “آپ کی تکلیف واقعی بڑی ہے”، یا کم از کم “میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔”
نفسیات کی زبان میں اس عمل کو توثیق یا ویلیڈیشن Validation کہا جاتا ہے۔ توثیق کا مطلب یہ نہیں کہ کسی شخص کی ہر بات کو درست تسلیم کر لیا جائے۔ اس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ اس کے احساسات، تجربات اور نقطۂ نظر کو اہمیت دی جائے۔ انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ نظرانداز نہیں ہوا، اس کی بات سنی گئی ہے اور اس کے جذبات بے معنی نہیں ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کی خوشی، خوداعتمادی، فیصلے اور اپنی قدر کا احساس مکمل طور پر دوسروں کی رائے کے تابع ہو جائے۔ پھر تعریف ملے تو وہ خود کو کامیاب سمجھتا ہے، تنقید ہو تو خود کو ناکام۔ لوگ توجہ دیں تو خوش، نظرانداز کریں تو بے چین۔ سوشل میڈیا پر پسندیدگی ملے تو مطمئن، ردعمل کم آئے تو دل شکستہ۔
سوال یہ ہے کہ انسان کو دوسروں کی توثیق validation کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟ کیا یہ کمزوری ہے یا ایک فطری انسانی ضرورت؟ اور کب یہ ضرورت ایک جذباتی انحصار میں تبدیل ہو جاتی ہے؟
توثیق Validation کیا ہے؟*
توثیق سے مراد کسی انسان کے احساسات، تجربات، محنت یا وجود کو تسلیم کرنا ہے۔ مثال کے طور پر ایک خاتون پورا دن گھر، بچوں، ملازمت اور بزرگ والدین کی ذمہ داریاں نبھاتی ہے۔ رات کو وہ تھکن کا اظہار کرتی ہے۔ اگر شوہر اسے یہ کہے:
“آپ تو سارا دن گھر میں ہوتی ہیں، اتنی تھکن کس بات کی ہے؟” تو اس کے احساسات کو رد کیا گیا۔
لیکن اگر وہ کہے: “میں دیکھ رہا ہوں کہ آج آپ نے بہت کام کیا ہے۔ آپ واقعی تھک گئی ہوں گی۔ کچھ دیر آرام کر لیں۔” تو یہ جذباتی توثیق emotional validation ہے۔
اسی طرح ایک بچہ امتحان میں کم نمبر آنے پر رو رہا ہو۔ والد اسے کہیں: “اس میں رونے والی کیا بات ہے؟ اتنے بھی برے نمبر نہیں آئے۔” تو بچہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا دکھ اہم نہیں۔
اگر والد کہیں:
“مجھے معلوم ہے تم نے محنت کی تھی، اس لیے کم نمبر آنے سے تمہیں دکھ ہوا ہے۔ آؤ دیکھتے ہیں کہاں مشکل ہوئی۔” تو بچے کے احساسات کو تسلیم کرتے ہوئے اسے حل کی طرف لے جایا گیا۔
توثیق validation کا تعلق صرف تعریف سے نہیں۔ کسی کے دکھ، خوف، غصے، مایوسی، بے یقینی اور الجھن کو سمجھنا بھی توثیق ہے۔
انسان ایک سماجی مخلوق ہے
انسان تنہائی میں پروان نہیں چڑھتا۔ ہماری شخصیت، سوچ، زبان، خوداعتمادی اور شناخت دوسروں کے ساتھ تعلقات کے اندر تشکیل پاتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی دوسروں کی توجہ، لمس، آواز اور ردعمل کا محتاج ہوتا ہے۔ وہ اپنی ماں کے چہرے کے تاثرات سے یہ جانتا ہے کہ دنیا محفوظ ہے یا خطرناک. جب بچہ مسکراتا ہے اور ماں جواب میں مسکراتی ہے، تو اس کے ذہن میں یہ پیغام جاتا ہے: “میں اہم ہوں، میری موجودگی دوسروں کے لیے خوشی کا سبب ہے۔”
جب بچہ روتا ہے اور کوئی اسے اٹھا لیتا ہے، تو وہ سیکھتا ہے: “میری تکلیف محسوس کی جاتی ہے، میں اکیلا نہیں ہوں۔”
اگر بچہ بار بار پکارے اور کوئی نہ آئے، اس کی بات کا مذاق اڑایا جائے، اسے خاموش کرایا جائے یا اس کے جذبات کو نظرانداز کیا جائے، تو وہ رفتہ رفتہ یہ ماننے لگتا ہے:
“شاید میرے جذبات اہم نہیں۔ شاید مجھے محبت حاصل کرنے کے لیے کوئی خاص کام کرنا پڑے گا۔”
اسی مرحلے سے بیرونی توثیق External valuation کی شدید ضرورت جنم لے سکتی ہے۔
بچپن میں تعریف کی کمی
بہت سے بالغ افراد آج بھی اپنے بچپن کی وہ تعریف تلاش کر رہے ہوتے ہیں جو انہیں کبھی نہیں ملی۔ بعض گھروں میں بچوں کی کامیابی کو معمول سمجھا جاتا ہے لیکن غلطی کو بہت بڑا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ بچہ آٹھ مضامین میں اچھے نمبر لے آئے اور ایک مضمون میں کم نمبر ہوں تو والدین کہتے ہیں: “ریاضی میں اتنے کم نمبر کیوں آئے؟”
بچے کی آٹھ کامیابیاں نظرانداز ہو جاتی ہیں اور ایک کمزوری اس کی پوری شناخت بن جاتی ہے۔ ایک لڑکی گھر کا کام کرے، چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالے، پڑھائی میں اچھی ہو، پھر بھی اسے کبھی یہ نہ کہا جائے:
“ہمیں تم پر فخر ہے۔”
لیکن معمولی غلطی پر سننے کو ملے: “تم سے کوئی کام ٹھیک نہیں ہوتا۔”
تو وہ بڑی ہو کر ہر رشتے میں اپنی اہمیت ثابت کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ وہ دوسروں کو خوش رکھنے، حد سے زیادہ قربانیاں دینے اور ہر وقت تعریف حاصل کرنے کی خواہش میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات ایک اعلیٰ عہدے پر پہنچا ہوا شخص بھی اپنے والد کی ایک تحسین بھری نظر کا منتظر ہوتا ہے۔ وہ کئی ڈگریاں، اعزازات اور کامیابیاں حاصل کر لیتا ہے، مگر اندر سے اب بھی وہی بچہ ہوتا ہے جو سننا چاہتا ہے: “مجھے تم پر فخر ہے۔”
مشروط محبت کا تجربہ*
اگر بچے کو یہ احساس ہو کہ اسے صرف اچھے نمبروں، فرمانبرداری، خوب صورتی، کامیابی یا دوسروں کو خوش رکھنے کی صورت میں محبت ملے گی، تو وہ محبت کو مشروط سمجھنے لگتا ہے۔
مثلاً: “اچھے نمبر لاؤ گے تو ابو خوش ہوں گے۔” “چپ رہو گی تو سب تمہیں اچھی بچی کہیں گے۔” “تم موٹی ہو رہی ہو، لوگ کیا کہیں گے؟” “اپنے بھائی کو دیکھو، وہ تم سے کتنا بہتر ہے۔”
اس ماحول میں پلنے والا بچہ اپنی اصل شخصیت کو قبول نہیں کر پاتا۔ وہ دوسروں کی توقعات کے مطابق کردار ادا کرتا ہے۔ جوانی میں بھی وہ خود سے یہ سوال نہیں کرتا:
“میں کیا چاہتا ہوں؟”
بلکہ سوچتا ہے: “لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟”
ایسے افراد اکثر اپنا لباس، پیشہ، شادی، تعلیم، رہائش اور طرزِ زندگی بھی دوسروں کی منظوری کے مطابق منتخب کرتے ہیں۔
موازنہ ہماری خودقدری کو زخمی کرتا ہے*
ہمارے معاشرے میں موازنہ بہت عام ہے۔ والدین بہن بھائیوں کا موازنہ کرتے ہیں، اساتذہ طلبہ کا، خاندان بہوؤں اور دامادوں کا، اور معاشرہ عورتوں اور مردوں کی کامیابیوں کا۔
“دیکھو تمہاری کزن ڈاکٹر بن گئی ہے۔”
“اس کے بچے کتنے ذہین ہیں۔”
“تمہاری بہن تم سے زیادہ خوب صورت ہے۔”
“فلاں کے شوہر نے اسے گاڑی لے کر دی ہے۔”
“اس عمر میں لوگ گھر بنا لیتے ہیں۔”
مسلسل موازنہ انسان کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنی جگہ کافی نہیں۔ اسے اپنی قدر ثابت کرنے کے لیے دوسروں سے بہتر ہونا ضروری ہے۔ نتیجتاً اس کی توجہ ذاتی ترقی سے ہٹ کر مقابلے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
ایک خاتون اپنی زندگی میں مطمئن ہو سکتی ہے، لیکن جیسے ہی وہ کسی دوسری خاتون کی بیرون ملک سفر، مہنگے لباس یا کامیاب بچوں کی تصاویر دیکھتی ہے، اسے اپنی زندگی کمتر محسوس ہونے لگتی ہے۔
ایک شخص اچھی ملازمت کر رہا ہوتا ہے، مگر دوست کی ترقی کی خبر سن کر اپنی کامیابی بھول جاتا ہے۔ اسے فوری طور پر کسی ایسے شخص کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو اسے یقین دلائے کہ وہ بھی کامیاب ہے۔
رد کیے جانے کا خوف
انسان کے لیے تعلق سے خارج ہونا جذباتی طور پر بہت تکلیف دہ ہے۔ اسی لیے ہم اکثر دوسروں کی منظوری اس خوف سے چاہتے ہیں کہ کہیں وہ ہمیں مسترد نہ کر دیں۔
یہ خوف مختلف شکلوں میں سامنے آتا ہے: - اختلاف سے بچنا
- ہر بات پر ہاں کہنا
- دوسروں کو ناراض نہ کرنے کی کوشش
- اپنی ضرورت قربان کر دینا
- غلط رویہ برداشت کرنا
- اپنی رائے چھپا لینا
- رشتے ٹوٹنے کے خوف سے حدیں قائم نہ کرنا
مثلاً ایک ملازم جانتا ہے کہ اس پر اضافی کام ڈالا جا رہا ہے، لیکن وہ انکار نہیں کرتا کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ افسر اسے غیر ذمہ دار سمجھے گا۔ اور ملازمت سے نکال دے گا-
ایک خاتون خاندان کے ہر فرد کی خدمت کرتی ہے، خواہ اس کی صحت خراب ہو، کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ انکار کرنے پر اسے خودغرض کہا جائے گا۔
ایک نوجوان دوستوں کے دباؤ میں ایسی سرگرمی میں شامل ہو جاتا ہے جو اسے پسند نہیں، صرف اس لیے کہ کہیں دوست اسے بور یا کمزور نہ سمجھیں۔
یہاں توثیق؛ validation کی طلب دراصل قبولیت کھونے کے خوف سے پیدا ہوتی ہے۔
گھر میں جذباتی توثیق کی کمی
بعض گھروں میں مادی ضروریات پوری کی جاتی ہیں، لیکن جذباتی ضروریات کو اہم نہیں سمجھا جاتا۔ والدین بچوں کو اچھا کھانا، لباس اور تعلیم دیتے ہیں، مگر ان کی بات سننے، ان کی پریشانی سمجھنے یا ان کے جذبات تسلیم کرنے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔
ایک بیٹا نوکری کے دباؤ سے پریشان ہو اور والد کہیں: “ہم نے تم سے زیادہ مشکل وقت دیکھا ہے۔”
ایک بیٹی شادی کے مسئلے پر پریشان ہو اور ماں کہے:
“ہر لڑکی کو یہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے۔”
شوہر اپنی ناکامی کا ذکر کرے اور بیوی فوراً کہے:
“میں نے پہلے ہی کہا تھا ایسا ہو گا۔”
بیوی کسی دکھ کا اظہار کرے اور شوہر موبائل دیکھتے ہوئے صرف “اچھا” کہہ دے۔
ایسے ردعمل انسان کے دکھ کو کم نہیں کرتے بلکہ اسے مزید تنہا کر دیتے ہیں۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس کے جذبات غیر ضروری ہیں۔ پھر وہ گھر کے بجائے باہر ایسے لوگوں کی تلاش کرتا ہے جو اسے سنیں، سمجھیں اور اہمیت دیں۔
ازدواجی رشتوں میں توثیق validation کی اہمیت
بہت سے میاں بیوی کے جھگڑے اصل مسئلے سے زیادہ توثیق validation کی کمی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اکثر ایک فریق حل نہیں مانگ رہا ہوتا، صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی بات پوری توجہ سے سنی جائے۔
مثلاً بیوی کہتی ہے: “میں سارا دن بچوں اور کام کی وجہ سے بہت تھک گئی ہوں۔” شوہر فوراً مشورہ دیتا ہے: “تو کام کم کر دو۔”
ممکن ہے بیوی کو اس وقت مشورہ نہ چاہیے ہو۔ وہ صرف یہ سننا چاہتی ہو:
“واقعی آج تم پر بہت زیادہ بوجھ رہا۔”
اسی طرح شوہر کہتا ہے:
“دفتر میں میری محنت کو کوئی نہیں دیکھتا۔”
بیوی جواب دیتی ہے:
“آپ کو ہر بات کا بہت اثر ہوتا ہے۔”
یہ جواب اس کی تکلیف کو رد کر دیتا ہے۔
اگر وہ کہے: “آپ نے واقعی بہت محنت کی ہے۔ یہ تکلیف دہ ہے کہ آپ کو اس کا کریڈٹ نہیں ملا۔” تو شوہر کو محسوس ہو گا کہ اسے سمجھا گیا ہے۔
تعلقات میں ہر مسئلہ حل کرنا ضروری نہیں، مگر ایک دوسرے کے جذبات کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
سوشل میڈیا اور توثیق validation کی نئی دنیا
سوشل میڈیا نے توثیق کی انسانی ضرورت کو اعداد میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب محبت، توجہ اور مقبولیت کو پسندیدگی، تبصروں، شیئرز اور فالوورز سے ناپا جاتا ہے۔ تصویر پوسٹ کرنے کے بعد بار بار موبائل دیکھنا، کم لائکس پر تصویر حذف کر دینا، کسی خاص شخص کے ردعمل کا انتظار کرنا، دوسروں کی پوسٹس سے اپنی زندگی کا موازنہ کرنا اور تعریف نہ ملنے پر اداس ہونا، یہ سب بیرونی توثیق External validation کی علامات ہو سکتی ہیں۔
ایک نوجوان اپنی تصویر پوسٹ کرتا ہے۔ پہلے گھنٹے میں کم ردعمل آتا ہے۔ وہ سوچتا ہے: “شاید میں اچھا نہیں لگ رہا۔” حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کا ردعمل کئی وجوہات کی بنا پر کم ہو سکتا ہے، لیکن وہ اسے اپنی ذاتی قدر سے جوڑ لیتا ہے۔
ایک خاتون روزانہ اپنی مصروف، خوش حال اور خوب صورت زندگی دکھاتی ہے، جبکہ حقیقت میں وہ تنہائی، ازدواجی پریشانی یا بے اطمینانی کا شکار ہو سکتی ہے۔ آن لائن تعریف اسے کچھ وقت کے لیے اچھا محسوس کراتی ہے، مگر اندرونی خلا برقرار رہتا ہے۔
سوشل میڈیا کا مسئلہ استعمال نہیں، بلکہ یہ یقین ہے کہ ہماری قدر کا فیصلہ لوگوں کی اسکرین پر ہونے والے ردعمل سے ہو گا۔
ظاہری خوب صورتی اور توثیق validation
معاشرے میں خصوصاً خواتین کو ظاہری شکل کی بنیاد پر بہت زیادہ جانچا جاتا ہے۔ بچپن سے ہی رنگ، وزن، قد، بال، لباس اور چہرے پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔
“تمہارا رنگ دب گیا ہے۔”
“وزن بڑھ گیا ہے۔”
“یہ لباس تم پر اچھا نہیں لگ رہا۔”
“فلاں تم سے زیادہ جوان لگتی ہے۔”
بار بار ایسی باتیں سن کر انسان اپنے جسم کو دوسروں کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر آئینہ صرف چہرہ نہیں دکھاتا بلکہ معاشرتی فیصلے سناتا ہے۔
بعض افراد ہر محفل میں یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کیسے لگ رہے ہیں۔ بار بار پوچھتے ہیں:
“میں موٹی تو نہیں لگ رہی؟” “یہ رنگ مجھ پر اچھا لگ رہا ہے؟” “میں بوڑھی تو نہیں لگ رہی؟”
یہ سوال ہمیشہ ظاہری معلومات کے لیے نہیں ہوتے۔ اکثر ان کے پیچھے یہ خواہش ہوتی ہے: “مجھے یقین دلاؤ کہ میں اب بھی قابلِ قبول ہوں۔”
تعلیمی کامیابی اور توثیق validation
طلبہ کی ایک بڑی تعداد سیکھنے کے بجائے تعریف، گریڈ اور والدین کی منظوری کے لیے پڑھتی ہے۔ اچھا نتیجہ انہیں صرف خوشی نہیں دیتا بلکہ اپنی قدر کا ثبوت محسوس ہوتا ہے۔ جب نمبر کم آئیں تو وہ صرف نتیجے سے مایوس نہیں ہوتے بلکہ اپنی ذات پر شک کرنے لگتے ہیں:
“میں ذہین نہیں ہوں۔”
“میں والدین کو مایوس کر چکا ہوں۔”
“لوگ میرا مذاق اڑائیں گے۔”
بعض والدین بچوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ان کی عزت بچے کے نمبروں سے وابستہ ہے۔ نتیجتاً بچہ علم کی محبت کے بجائے ناکامی کے خوف میں پڑھتا ہے۔
ایک طالب علم جو ہمیشہ پہلی پوزیشن لیتا رہا ہو، یونیورسٹی میں معمولی گریڈ آنے پر شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے، کیونکہ اس نے اپنی پوری شناخت “سب سے بہترین” ہونے پر قائم کی ہوتی ہے۔
ملازمت اور پیشہ ورانہ زندگی میں توثیق validation
دفتر میں ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی محنت دیکھی جائے۔ مناسب تعریف ملازمین کی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہے، لیکن بعض اوقات انسان ترقی، عہدے اور تعریف کو اپنی مکمل شناخت بنا لیتا ہے۔ وہ کئی گھنٹے اضافی کام کرتا ہے، چھٹی نہیں لیتا، ہر ذمہ داری قبول کرتا ہے اور اپنے افسر کی خوشنودی کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ اگر تعریف نہ ملے تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک محنتی ملازم برسوں ادارے میں کام کرتا ہے۔ ترقی کسی اور کو مل جاتی ہے۔ اسے صرف عہدہ نہ ملنے کا دکھ نہیں ہوتا بلکہ یہ احساس بھی ہوتا ہے:
“شاید میری کوئی قدر نہیں۔”
یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی کارکردگی کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے، بہتری کی کوشش کرے، مگر اپنی پوری ذاتی قدر کو ادارے کے فیصلے کے حوالے نہ کرے۔ عہدہ انسان کی ذمہ داری بتاتا ہے، اس کی مکمل حیثیت نہیں۔
لوگوں کو خوش رکھنے کی عادت*
دوسروں کو خوش رکھنا بظاہر اچھی عادت محسوس ہوتی ہے، لیکن جب انسان اپنی ضرورت، صحت اور عزتِ نفس قربان کر کے سب کو خوش رکھنے لگے تو یہ جذباتی مسئلہ بن جاتا ہے۔
ایسے شخص کو “نہیں” کہنا مشکل لگتا ہے۔ وہ خوف محسوس کرتا ہے کہ لوگ اسے خودغرض، بدتمیز یا بے حس کہیں گے۔ گھر میں مہمان آ جائیں تو وہ اپنی بیماری کے باوجود کام کرتا رہتا ہے۔ دفتر میں کوئی اپنی ذمہ داری اس پر ڈال دے تو وہ قبول کر لیتا ہے۔ رشتہ دار مالی مدد مانگیں تو اپنی ضرورت چھوڑ دیتا ہے۔ دوست ہر وقت فون کریں تو وہ تھکن کے باوجود سنتا رہتا ہے۔ بعد میں وہ اندر ہی اندر شکایت کرتا ہے: “میں سب کے لیے کرتا ہوں، میرے لیے کوئی نہیں کرتا۔”
حقیقت یہ ہے کہ اس نے دوسروں کو اپنی حدود نہیں بتائیں۔ وہ توثیق validation حاصل کرنے کے لیے خدمت کر رہا تھا، لیکن جب مطلوبہ تعریف نہ ملی تو ناراضی پیدا ہوئی۔ محبت سے مدد کرنا اور منظوری خریدنے کے لیے خود کو ختم کر دینا دو مختلف باتیں ہیں۔
تنقید برداشت نہ کر پانا
جو شخص اپنی قدر کے لیے مکمل طور پر دوسروں پر منحصر ہو، اس کے لیے معمولی تنقید بھی ذاتی حملہ بن جاتی ہے۔
افسر کہے: “اس رپورٹ میں چند تبدیلیاں ضروری ہیں۔” وہ سوچتا ہے: “انہیں میرا کام پسند نہیں۔ شاید میں ناکام ہوں۔”
شوہر کہے: “آج کھانے میں نمک زیادہ ہے۔” بیوی محسوس کرتی ہے: “میری کسی محنت کی قدر نہیں۔”
دوست مصروفیت کی وجہ سے جواب نہ دے تو خیال آتا ہے: “وہ مجھے اہم نہیں سمجھتا۔”
ہر واقعے کو اپنی ذات کی نفی سمجھنا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ انسان کے اندر خودتوثیق Self-validation کمزور ہے۔ تنقید ہمیشہ بے قدری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ صرف کسی کام، فیصلے یا رویے پر رائے ہوتی ہے، پوری شخصیت پر فیصلہ نہیں۔
کامیابی کے باوجود بے اطمینانی
بعض لوگ مسلسل کامیابیاں حاصل کرتے ہیں، لیکن مطمئن نہیں ہو پاتے۔ ایک ڈگری کے بعد دوسری، ایک عہدے کے بعد دوسرا، ایک اعزاز کے بعد اگلا اعزاز۔ انہیں خوشی ملتی ہے، مگر بہت مختصر مدت کے لیے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ کامیابی اپنے مقصد کے لیے نہیں بلکہ دوسروں سے اعتراف حاصل کرنے کے لیے حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ خاندان انہیں سب سے کامیاب سمجھے، دوست متاثر ہوں، مخالفین خاموش ہو جائیں اور معاشرہ ان کی اہمیت تسلیم کرے۔ جب کامیابی کا شور ختم ہوتا ہے تو اندر کا خلا دوبارہ سامنے آ جاتا ہے۔ پھر نئی کامیابی کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔
ایسے شخص کو رک کر خود سے پوچھنا چاہیے:
“اگر کوئی میری تعریف نہ کرے تو کیا میں پھر بھی یہ کام کرنا چاہوں گا؟”
“کیا یہ میرا حقیقی مقصد ہے یا خود کو ثابت کرنے کی کوشش؟”
توثیق validation کی طلب ہمیشہ کمزوری نہیں
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دوسروں سے تعریف، محبت اور جذباتی تسلیم چاہنا غیر معمولی بات نہیں۔ ہر انسان کو تعلق، حوصلہ افزائی اور قبولیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک بچے کو والدین کی تحسین چاہیے۔
ایک شریکِ حیات کو اپنے ساتھی کی توجہ چاہیے۔
ایک ملازم کو اپنی محنت کا اعتراف چاہیے۔
ایک دوست کو یہ یقین چاہیے کہ وہ اہم ہے۔
مسئلہ ضرورت میں نہیں، مکمل انحصار میں ہے۔
صحت مند حالت یہ ہے:
“مجھے آپ کی تعریف اچھی لگتی ہے، مگر میری قدر صرف اس پر منحصر نہیں۔”
غیر صحت مند حالت یہ ہے:
“جب تک آپ میری تعریف نہ کریں، میں خود کو قابل نہیں سمجھ سکتا۔”
جذباتی توثیق اور اتفاق میں فرق
کسی کے جذبات کی توثیق validation کرنے کا مطلب اس کی ہر بات سے اتفاق کرنا نہیں۔ ایک نوجوان کہتا ہے: “مجھے بہت غصہ آ رہا ہے، میں گھر چھوڑ دینا چاہتا ہوں۔” والد یہ کہہ سکتے ہیں: “میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم اس وقت شدید غصے میں ہو۔ لیکن غصے میں گھر چھوڑنا محفوظ فیصلہ نہیں۔ پہلے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔”
یہاں جذبات کو تسلیم کیا گیا لیکن نقصان دہ فیصلے کی حمایت نہیں کی گئی۔
اسی طرح ایک دوست کہتی ہے: “میرا دل چاہتا ہے میں اس شخص سے بدلہ لوں۔” آپ کہہ سکتے ہیں: “تمہیں جس طرح تکلیف پہنچی، اس کے بعد غصہ آنا فطری ہے۔ لیکن بدلہ لینے سے مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔”
یہ صحت مند توثیق validation ہے: احساس کو سمجھنا، مگر ہر عمل کو درست قرار نہ دینا۔
خودتوثیق Self-validation کیا ہے؟
خودتوثیق کا مطلب ہے اپنے احساسات، کوششوں اور تجربات کو خود تسلیم کرنا۔ یہ کہنا: “میں واقعی تھکا ہوا ہوں، مجھے آرام کی ضرورت ہے۔” “یہ واقعہ میرے لیے تکلیف دہ تھا، خواہ دوسرے اسے معمولی سمجھیں۔” “میں نے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کی۔” “میری غلطی ہوئی، مگر میں مکمل طور پر ناکام انسان نہیں ہوں۔”
“میری رائے دوسروں سے مختلف ہو سکتی ہے، پھر بھی اہم ہے۔”
خودتوثیق انسان کو خودپسند نہیں بناتی بلکہ جذباتی طور پر متوازن کرتی ہے۔ جو شخص اپنی قدر جانتا ہے، اسے ہر وقت دوسروں سے یقین دہانی مانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اپنی قدر کو کامیابی سے الگ کریں
ہم اکثر کہتے ہیں: “میں کامیاب ہوں، اس لیے قابلِ قدر ہوں۔”
لیکن زیادہ صحت مند سوچ یہ ہے: “میں انسان ہونے کے ناطے قابلِ احترام ہوں، اور کامیابی میری زندگی کا ایک حصہ ہے۔”
ملازمت چلی جائے تو انسان کی مہارت، تجربہ اور کردار ختم نہیں ہو جاتے۔
شادی میں مسئلہ پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان محبت کے قابل نہیں۔
امتحان میں ناکامی کسی کی پوری ذہانت کا فیصلہ نہیں۔
بیماری، بڑھتی عمر یا جسمانی تبدیلیاں انسان کی بنیادی قدر کم نہیں کرتیں۔
جب ہم اپنی عزتِ نفس کو عہدے، دولت، خوب صورتی، رشتے یا شہرت سے باندھ دیتے ہیں تو ان میں تبدیلی کے ساتھ ہماری خودقدری بھی ہلنے لگتی ہے۔
اپنے اندرونی مکالمے پر توجہ دیں
انسان دوسروں کی توثیق validation اس وقت زیادہ مانگتا ہے جب اس کی اندرونی آواز مسلسل اسے تنقید کا نشانہ بناتی ہو۔
“تم کافی اچھے نہیں۔”
“تم سے غلطی ہو جائے گی۔”
“لوگ تمہیں پسند نہیں کرتے۔”
“تم دوسروں سے پیچھے ہو۔”
“تمہاری عمر نکل گئی۔”
یہ اندرونی جملے اکثر بچپن، معاشرتی موازنوں اور ماضی کے تلخ تجربات سے آتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ حقیقت ہوں۔ ان جملوں کو بدلنے کی مشق کی جا سکتی ہے:
“مجھ میں خامیاں ہیں، مگر صلاحیتیں بھی ہیں۔”
“غلطی میری تربیت کا حصہ ہے۔”
“ہر شخص کا مجھے پسند کرنا ضروری نہیں۔”
“میری رفتار مختلف ہو سکتی ہے۔”
“عمر کے ہر مرحلے میں نئی شروعات ممکن ہے۔”
روزمرہ زندگی میں خودتوثیق کی مشق
صبح آئینے میں صرف ظاہری خامیاں تلاش کرنے کے بجائے خود سے کہیں:
“میں اپنے جسم کا شکر گزار ہوں جو روز میرا ساتھ دیتا ہے۔”
کسی کام میں ناکامی پر کہیں: “نتیجہ میری توقع کے مطابق نہیں آیا، لیکن میری کوشش بے معنی نہیں تھی۔”
تنقید سننے کے بعد کہیں:
“میں مفید بات لے سکتا ہوں، باقی کو اپنی شخصیت کا فیصلہ نہیں بناؤں گا۔” کوئی پیغام کا جواب نہ دے تو فوراً یہ نتیجہ نہ نکالیں کہ آپ غیر اہم ہیں۔ ممکن ہے دوسرا شخص مصروف، پریشان یا تھکا ہوا ہو۔
کسی تقریب میں تعریف نہ ملے تو خود سے کہیں:
“میری خوب صورتی یا وقار دوسروں کے تبصرے سے پیدا نہیں ہوتا۔”
یہ چھوٹے جملے آہستہ آہستہ اندرونی تحفظ پیدا کرتے ہیں۔
والدین بچوں کو صحت مند توثیق Validation کیسے دیں؟
بچے کی صرف کامیابی نہیں، کوشش کی تعریف کریں۔ “تم نے بہت محنت کی، یہ قابلِ تعریف ہے۔”
اس کے جذبات کو نام دیں:
“شاید تم اداس ہو کیونکہ دوست نے تمہیں کھیل میں شامل نہیں کیا۔”
فوراً وعظ یا حل نہ دیں۔ پہلے بات سنیں۔
بچے کو یہ نہ کہیں: “لڑکے نہیں روتے۔” “اچھی بچیاں غصہ نہیں کرتیں۔”
اس کے بجائے کہیں: “رونا اور غصہ محسوس کرنا فطری ہے، لیکن ہمیں اپنے رویے کو مناسب رکھنا ہے۔”
بچے کو دوسروں سے کم موازنہ کریں اور اس کی ذاتی بہتری پر توجہ دیں۔
سب سے اہم بات یہ کہ بچے کو یہ یقین دیں: “ہم تم سے صرف کامیابی کی وجہ سے محبت نہیں کرتے۔”
ازدواجی زندگی میں توثیق validation کے جملے
روزمرہ زندگی میں چند سادہ جملے تعلقات کو بدل سکتے ہیں:
“میں آپ کی بات سن رہا ہوں۔” “آپ کے لیے یہ صورتِ حال واقعی مشکل ہو گی۔” “آپ نے گھر اور بچوں کے لیے بہت محنت کی ہے۔” “مجھے خوشی ہے کہ آپ نے یہ بات مجھ سے شیئر کی۔” “میں آپ سے متفق نہ بھی ہوں، پھر بھی آپ کے احساسات سمجھنا چاہتا ہوں۔” “آپ کی کوشش میرے لیے اہم ہے۔” “آج آپ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں، میں کیا مدد کر سکتا ہوں؟”
کبھی کبھی ایک سچا جملہ مہنگے تحفے سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔
دوسروں کی رائے سے مکمل آزادی ممکن نہیں
بعض لوگ خودانحصاری کے نام پر کہتے ہیں:
“مجھے کسی کی پروا نہیں۔”
لیکن مکمل طور پر دوسروں سے بے نیاز ہونا نہ حقیقت پسندانہ ہے نہ صحت مند۔ ہم سب تعلقات میں رہتے ہیں۔ ہمیں قابلِ اعتماد لوگوں کی رائے، محبت اور حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ انسان کسی کی بات نہ سنے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر آواز کو اپنی تقدیر کا فیصلہ نہ بنائے۔ دانشمند انسان مفید رائے قبول کرتا ہے، تعمیری تنقید سے سیکھتا ہے، محبت کو محسوس کرتا ہے، لیکن اپنی مکمل شناخت دوسروں کے حوالے نہیں کرتا۔
حدود قائم کرنا سیکھیں*
صحت مند خودقدری کا ایک اہم حصہ حدود قائم کرنا ہے۔ ہر درخواست ماننا ضروری نہیں۔ ہر شخص کو وضاحت دینا ضروری نہیں۔ ہر تنقید کا جواب دینا ضروری نہیں۔
آپ کہہ سکتے ہیں:
“میں اس وقت یہ ذمہ داری نہیں لے سکتا۔”
“اس انداز میں بات کرنا میرے لیے قابلِ قبول نہیں۔”
“مجھے سوچنے کے لیے وقت چاہیے۔”
“میں آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں، مگر میرا فیصلہ مختلف ہے۔”
“آج میری صحت اجازت نہیں دے رہی۔”
شروع میں لوگ ناراض ہو سکتے ہیں، خصوصاً وہ جو آپ کی بے حد دستیابی کے عادی ہوں۔ لیکن وقتی ناراضی سے بچنے کے لیے خود کو مسلسل نظرانداز کرنا اندرونی ناراضی اور تھکن پیدا کرتا ہے۔
اپنا جذباتی حلقہ درست منتخب کریں
ہر شخص ہماری گہری بات سننے کے قابل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ مذاق اڑاتے ہیں، کچھ فوراً فیصلہ سناتے ہیں اور کچھ ہماری کمزوری کو بعد میں ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
اپنے جذبات ایسے لوگوں کے ساتھ شیئر کریں جو: - توجہ سے سنیں
- راز کی حفاظت کریں
- ہر بات کو مقابلہ نہ بنائیں
- فوراً فیصلہ نہ سنائیں
- آپ کو کمزور نہ سمجھیں
- ضرورت پڑنے پر سچ بھی کہیں
صحت مند توثیق validation کا مطلب خوشامد نہیں۔ حقیقی دوست وہ ہے جو آپ کے احساس کو سمجھے، لیکن غلطی پر مناسب انداز سے متوجہ بھی کرے۔
کب پیشہ ورانہ مدد ضروری ہے؟
اگر انسان ہر وقت تعریف کا محتاج رہے، تنقید پر شدید ٹوٹ جائے، معمولی نظراندازی پر بے چینی محسوس کرے، زہریلے رشتے صرف تنہائی کے خوف سے برداشت کرے، اپنی رائے ظاہر نہ کر سکے، یا سوشل میڈیا کے ردعمل سے اس کا مزاج مسلسل متاثر ہو، تو ماہرِ نفسیات سے مشورہ مفید ہو سکتا ہے۔ خصوصاً جب توثیق validation کی ضرورت ماضی کے جذباتی زخم، والدین کی بے توجہی، مسلسل تنقید، مسترد کیے جانے، ازدواجی بدسلوکی یا کم خوداعتمادی سے جڑی ہو، تو صرف مثبت سوچ کافی نہیں ہوتی۔ انسان کو اپنے پرانے تجربات سمجھنے، جذبات کو منظم کرنے اور نئی نفسیاتی مہارتیں سیکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مدد لینا کمزوری نہیں بلکہ اپنی ذہنی صحت کو اہمیت دینا ہے۔
لوگوں کو توثیق validation دینا بھی سیکھیے
ہم سب توثیق validation چاہتے ہیں، مگر سوال یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کو کتنی توثیق دیتے ہیں؟ کیا ہم بچوں کی بات مکمل سنتے ہیں؟ کیا ہم اپنے شریکِ حیات کی محنت تسلیم کرتے ہیں؟ کیا ہم ملازمین کے اچھے کام کی تعریف کرتے ہیں؟ کیا ہم بزرگوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کی موجودگی اہم ہے؟ کیا ہم دوست کے دکھ کو فوراً اپنی کہانی سے بدل دیتے ہیں؟
بعض اوقات ایک شخص کئی دنوں سے صرف ایک جملے کا منتظر ہوتا ہے:
“میں تمہاری کوشش دیکھ رہا ہوں۔”
“تم میرے لیے اہم ہو۔”
“تمہارا دکھ حقیقی ہے۔”
“تم اکیلے نہیں ہو۔”
“مجھے تم پر فخر ہے۔”
یہ جملے کسی کا بوجھ ختم نہیں کرتے، مگر اسے بوجھ اٹھانے کی طاقت دے سکتے ہیں۔
نتیجہ: اپنی قدر کا اختیار واپس لیجیے
دوسروں سے محبت، تعریف، توجہ اور قبولیت چاہنا انسانی فطرت ہے۔ ہمیں تعلقات کی ضرورت ہے اور صحت مند توثیق validation ہماری جذباتی نشوونما کے لیے اہم ہے۔ لیکن جب ہم اپنی پوری قدر، خوشی اور شناخت دوسروں کے فیصلوں کے حوالے کر دیتے ہیں تو ہم ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں جس کی کوئی آخری منزل نہیں۔ لوگوں کی رائے بدلتی رہتی ہے۔ جو آج تعریف کرتے ہیں، کل تنقید کر سکتے ہیں۔ جو آج قریب ہیں، کل مصروف ہو سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا ردعمل، عہدہ، ظاہری شکل، دولت اور شہرت سب عارضی ہیں۔ انسانی سکون اس وقت بڑھتا ہے جب وہ یہ سمجھ لیتا ہے: “مجھے محبت اور تعریف کی خواہش ہے، مگر میری قدر صرف دوسروں کے ردعمل سے طے نہیں ہوتی۔”
“میری غلطیاں میری پوری شخصیت نہیں۔” “میں ہر شخص کو خوش نہیں کر سکتا۔” “میرا دکھ توجہ کے قابل ہے۔” “میری ضروریات بھی اہم ہیں۔” “میں خود کو وہ احترام دے سکتا ہوں جس کا انتظار میں دوسروں سے کرتا رہا ہوں۔”
توثیق validation کی سب سے پائیدار شکل یہ ہے کہ انسان خود سے دشمنی ختم کر دے۔ اپنی کوشش کو تسلیم کرے، اپنی خامیوں کے ساتھ خود کو قبول کرے، اپنی حدود قائم کرے اور اپنی زندگی ایسے اصولوں پر گزارے جو صرف لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے نہیں بلکہ اندرونی اطمینان کے لیے ہوں۔
دوسروں کی تعریف خوب صورت ہے، مگر آپ کی خوداعتمادی کی بنیاد نہیں ہونی چاہیے۔ محبت ضروری ہے، مگر اپنی ذات کو کھو کر نہیں۔ قبولیت قیمتی ہے، مگر ہر قیمت پر نہیں۔ آخرکار انسان کو یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ دنیا کی تالیاں خاموش بھی ہو جائیں، تب بھی اس کے وجود کی اہمیت باقی رہتی ہے۔