سانحہ بہاولپور سے آج تک: تاریخ کے آئینے میں پاکستان کی قیادت اور طاقت کا کھیل

میجر (رٰ)  ساجد مسؔعود صادق نظامی

17 اگست 1988ء کو سہ پہر تقریباً 3 بج کر 51 منٹ پر بہاولپور کے قریب ایک فوجی طیارہ C-130 حادثے کا شکار ہوا۔ اس سانحے میں پاکستان کے صدر اور آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمن، متعدد اعلیٰ فوجی افسران اور پاکستان میں متعین امریکی سفیر آرنلڈ لوئس رافل سمیت تقریباً 30 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ حادثہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کے ان واقعات میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ملک کی سمت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

پاکستان کی تاریخ میں اقتدار کے ایوانوں سے وابستہ ایسے واقعات کا سلسلہ اس سے کہیں پہلے شروع ہو چکا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی وفات کے وقت ایمبولینس کے خراب ہونے سے متعلق سوالات آج بھی تاریخی بحث کا حصہ ہیں۔ ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو 1951ء میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک عوامی اجتماع کے دوران قتل کر دیا گیا۔ پاکستان کے پہلے مقامی کمانڈر اِن چیف جنرل افتخار علی خان بھی اپنے عہدے کا منصب سنبھالنے سے قبل طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے۔

جنرل ایوب خان کے دور میں پاکستان نے ترقی، خارجہ تعلقات اور ریاستی استحکام کے مختلف مراحل دیکھے، لیکن بالآخر ان کا اقتدار بھی شدید سیاسی مخالفت کے بعد ختم ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاست کے انتہائی بااثر رہنماؤں میں شمار ہوئے۔ انہوں نے ملک کو ایک نیا سیاسی اور سفارتی تصور دیا، مگر ان کا سیاسی سفر بالآخر اقتدار کے خاتمے، گرفتاری اور پھانسی پر منتج ہوا۔

جنرل محمد ضیاء الحق 90 دن کے لیے اقتدار میں آئے تھے، مگر تقریباً نو برس تک ملک کے صدر اور طاقت کے مرکز رہے۔ ان کے دور میں پاکستان کی داخلی سیاست، افغانستان کی جنگ، امریکہ سے تعلقات، اسلامی قوانین اور عسکری اداروں کے کردار نے ملکی سیاست کی سمت متعین کی۔ 17 اگست 1988ء کا بہاولپور حادثہ ان کے دور کا اچانک اور ڈرامائی اختتام ثابت ہوا۔

حادثے کے بعد ملک میں عام انتخابات ہوئے اور محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں۔ جنرل ضیاء الحق کی موت پر ان کا یہ جملہ کہ “This must be an act of God” اس وقت کی شدید سیاسی کشیدگی اور ان کے ذاتی سیاسی پس منظر کی عکاسی کرتا تھا۔ تاہم تاریخ کا ایک تلخ اتفاق یہ بھی ہے کہ 27 دسمبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو خود راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے کے بعد دہشت گرد حملے کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو گئیں۔

اس کے بعد اقتدار کا مرکز ایک بار پھر تبدیل ہوا۔ آصف علی زرداری صدر بنے، پھر نواز شریف کی سیاسی واپسی ہوئی، اور پاکستانی سیاست میں اقتدار کی منتقلی، عدالتی فیصلوں، عسکری اثر و رسوخ اور سیاسی اتحادوں کا ایک نیا دور شروع ہوا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کو سمجھنے کے لیے اس دور کے اہم کرداروں کی کتابیں بھی اہم ماخذ ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی If I Am Assassinated، جنرل ایوب خان کی Friends Not Masters، بریگیڈیئر محمد یوسف کی Afghanistan: The Bear Trap، جنرل مرزا اسلم بیگ کی اقتدار کی مجبوریاں اور جنرل پرویز مشرف کی In the Line of Fire میں پاکستان کی سیاست، عالمی طاقتوں کے اثرات، افغانستان، فوج اور سول حکومت کے تعلقات کے بارے میں مختلف زاویے سامنے آتے ہیں۔

ان کتابوں کو پڑھتے ہوئے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی تاریخ صرف شخصیات کی کشمکش کی داستان نہیں بلکہ داخلی طاقت کے مراکز، عالمی سیاست، علاقائی حالات اور ریاستی مفادات کے باہمی تصادم کی بھی کہانی ہے۔ تاہم کسی بھی تاریخی واقعے کو محض سازش قرار دینے سے پہلے شواہد، تحقیقات اور مختلف تاریخی ذرائع کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔

نواز شریف کے دور میں ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کے عالمی تعلقات میں ایک نیا موڑ آیا۔ بعد ازاں ان کی حکومت کا خاتمہ، جلاوطنی اور پھر سیاسی واپسی ملکی سیاست کے اہم ابواب بنے۔ اسی دوران بے نظیر بھٹو بھی طویل عرصہ جلاوطنی میں رہیں۔ پھر جنرل پرویز مشرف کا دور آیا اور بالآخر سیاسی عمل کے ذریعے دوبارہ منتخب حکومتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

2018ء میں عمران خان وزیراعظم بنے۔ ان کی سیاست میں ابتدا میں فوجی قیادت کے ساتھ نسبتاً قریبی تعلقات کا تاثر نمایاں تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہی تعلق شدید اختلاف میں تبدیل ہو گیا۔ اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد عمران خان نے بھی ریاستی طاقت، عالمی سیاست اور داخلی سیاسی نظام پر سخت سوالات اٹھائے۔ یوں پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر وہی بنیادی سوال سامنے آیا: اختیار کا اصل مرکز کہاں ہے، اور سیاسی قیادت اپنے فیصلوں میں کس حد تک آزاد ہے؟

پاکستان کی تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخ کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ شخصیات بدلتی رہی ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہی ہیں، مگر طاقت کے مراکز کے درمیان کشمکش ختم نہیں ہوئی۔ کبھی سیاسی قیادت طاقتور ہوئی تو کبھی عسکری قیادت؛ کبھی عدلیہ فیصلہ کن کردار میں سامنے آئی تو کبھی عالمی طاقتوں کا اثر نمایاں ہوا۔

اس صورت حال کو صرف “سازش” کہہ کر نظر انداز کرنا بھی مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ پاکستان کی داخلی کمزوریاں، اداروں کے درمیان عدم توازن، سیاسی عدم برداشت، کمزور جمہوری روایات، معاشی انحصار اور خارجہ دباؤ—یہ سب مل کر ایک پیچیدہ نظام تشکیل دیتے ہیں۔

عوام کے لیے بھی اس تاریخ میں ایک بڑا سبق موجود ہے۔ ہر سیاسی بحران کو صرف ایک شخصیت کے گرد دیکھنے کے بجائے اداروں، پالیسیوں اور کارکردگی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ قوموں کی تقدیر شخصیات کے نعروں سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، قانون کی بالادستی، شفاف حکمرانی، معاشی خود انحصاری اور ذمہ دار سیاسی قیادت سے بدلتی ہے۔

آج پاکستان ایک بار پھر ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت ریاستی قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کیا جائے اور اداروں کے درمیان تصادم کے بجائے آئینی حدود، قومی مفاد اور عوامی فلاح کو ترجیح دی جائے۔ اللہ نہ کرے کہ پاکستان دوبارہ کسی ایسے سانحے سے دوچار ہو جو ملک کو ایک اور طویل سیاسی بحران میں دھکیل دے۔

قوم کو بھی شخصیاتی سحر اور سیاسی شعبدہ بازی سے نکل کر قیادت کو اس کی کارکردگی کی بنیاد پر پرکھنا ہوگا۔ قائدین کو ذاتی مفاد، اقتدار اور گروہی سیاست سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔

پاکستان کی تاریخ ہمیں بار بار ایک ہی سوال کی طرف واپس لاتی ہے: کیا ہم تاریخ سے واقعی سبق سیکھیں گے؟

اگر عوام اور قیادت دونوں نے ماضی کے تجربات سے سیکھ لیا تو پاکستان اپنے سیاسی بحرانوں کے چکر سے نکل سکتا ہے۔ لیکن اگر شخصیات، اقتدار اور مفادات قومی اداروں اور عوامی فلاح پر غالب رہے تو تاریخ خود کو دہراتی رہے گی۔

وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کسی ایک فرد یا ادارے کی طاقت کے بجائے آئین، قانون، جمہوری تسلسل، مضبوط اداروں اور عوامی مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھے۔ یہی وہ راستہ ہے جو سانحات، سازشی بیانیوں اور اقتدار کی مسلسل کشمکش سے نکل کر ایک مستحکم پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے۔

          

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top